Pay in installments of $50.00 with
,
and
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 22 - Jul 27
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
سیر لاہور | Seir Lahore | Syed Faizan Abbas Naqvi2020 144 1868 1936 : :
سیر لاہور
مصنف | رائے صاحب منشی گلاب سنگھ
ترتیب و حواشی | سیّد فیضان عباس نقوی
اشاعت | 2020ء
صفحآت 144
لاہور کا شمار برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے، اس بارے کوئی دو آرا نہیں ہیں۔ اگر کچھ اختلاف ہے تو وہ اس بات پر ہے کہ لاہور کو کس نے اور کب بسایا اور اس کے نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کو بسانے کے پس پشت مذہبی، تجارتی اور معاشی وجوہات رہی ہیں اور اس کو بسانے والا کوئی ایک شخص نہیں بلکہ قبائل اور برادریاں تھیں۔لاہور کا نام لاہو، لوہارو، لاوا یا کچھ اور تھا اس بابت بھی مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ لاہور کی ابتدائی تاریخ کی بابت مصدقہ معلومات بہت کم ہیں۔
لاہور پر مختلف ادوار میں غزنوی، غوری، مغل،ابدالی اور سکھ حکمران رہے لیکن سولہویں صدی کے اواخر اور اٹھارویں صدی کی ابتدا تک مغل دور اقتدار میں لاہور کو بہت زیادہ اہمیت رہی کیونکہ مغلوں نے کچھ سالوں تک اس کو اپنا دارالحکومت بنایا تھا۔
انیسویں صدی کے اوائل میں جب رنجیت سنگھ نے پنجاب پر اپنی حکومت قائم کی تو اس نے اپنی سرکار کو لاہور دربار کا نام دیا تھا۔رنجیت سنگھ کے دور اقتدار نے لاہور کو نئی شناخت دی اور لاہور نہ صرف ہندوستان بلکہ بین الاقوامی طور پر بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگیا تھا۔
سکھ سلطنت کے انہدام کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں تاج برطانیہ لاہور پر قابض ہوا تو لاہور کی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ اب لاہور برصغیر کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تحریکوں کا اہم مرکز بن گیا تھا۔کوئی سیاسی اور سماجی تحریک اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی تھی جب تک کہ لاہور اس تحریک کی تائید نہیں کرتا تھا۔برطانیہ سے مکمل آزادی کی قراردار ہو یا قیام پاکستان کی قرارداد دونوں ہی لاہور میں منظور ہوئی تھیں۔
برطانوی عہد کا لاہور متعدد مذاہب، متنوع ثقافتوں اور لسانی شناختوں کا مرقع تھا۔ خوبصورت مندر، عالی شان مساجد، گردوارے اور چرچ اس کی پہچان تھے۔ لاہور کے تعلیمی ادارے اور اس کے کشادہ اور روشن بازار اور باغات اس کو پورے برصغیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
لاہور کی پہچان جہاں اس کی ماضی کی شاندار تاریخ ہے جس کے آثار و باقیات آج بھی ہم میں موجود ہیں اور دوسرے وہ اہل علم ہیں جنھوں نے لاہور کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔انھوں نے لاہور بارے اپنے تذکروں اور یادداشتوں میں جس انداز میں لاہور کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا ہے اس نے لاہور کو زندہ جاوید بنادیا ہے۔
برطانوی قبضے کے بعد لاہور بارے سب سے پہلی کتاب مولوی نور احمد چشتی نے 1868میں تحقیقات چشتی کے عنوان سے لکھی تھی۔ نوراحمد چشتی کی یہ کتاب لاہور بارے معلومات کا خزانہ ہے۔ لاہور بارے اس کے بعد جو دوسری کتاب لکھی گئی وہ رائے بہادر کنہیا لعل ہندی کی تاریخ لاہور تھی جو اپنے مواد اور زبان و بیان کے اعتبار سے آج بھی بہت مقبول ہے۔ اندرون شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے سید محمد لطیف کی تاریخ لاہور، کرنل بھولا ناتھ وارث کی تاریخ شہر لہور اور منشی محمددین فوق کی مآ ثر لاہور،لاہور کی تاریخ پر بہت اہم کتابیں ہیں۔ ان کتابوں میں لاہور کی تاریخ، تاریخی عمارتوں، مذاہب، ثقافتوں اوراس کے وسنیکوں کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا گیا ہے۔
تقسیم ہند کے بعد لاہور سے بحالت مجبوری نقل مکانی کرنے والے ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم لکھاریوں نے اپنی جنم بھومی لاہور سے زبردستی جدا کئے جانے کے غم اور اداسی کو اپنی یاداشتوں میں سمویا۔ان میں سوم آنند کی’کہاں گیا میرا شہر لاہور‘،گوپال متل کی’لاہورکا جو ذکر کیا‘، سنتوش کمار کی ’لاہور نامہ‘ ایسی کتابیں ہیں جن میں لاہور کا وہ رنگ نظر آتا ہے جو ہم اب ہمیشہ کے لئے کھو چکے ہیں اور یہ وہ لاہور تھا جو آج کے فرقہ ورانہ تنازعات اور بنیاد پرستی کی فضا میں لتھڑے ہوئے لاہور کے مقابلے میں ایک خواب لگتا ہے۔
’سیر لاہور‘ پروفیسر گلاب سنگھ کی تحریر کردہ ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ جغرافیہ کے استاد تھے۔ یہ کتاب انھوں نے 1936 میں لکھی تھی جو سکول کے ابتدائی کلاسز کے طلبا کے لئے تھی۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے طلبا کے ذہنی معیار اور صلاحیت کے پیش نظر رکھتے ہوئے لاہور کی نہایت آسان پیراے میں لاہور کی سیر کروائی ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے لاہور کی تمام قابل ذکر عمارتوں۔۔ ٹاون ہال،عجائب گھر، اسمبلی ہال، چڑیا گھر، گورنر ہاوس کو متعارف کروایا ہے۔ لاہور کی تاریخی عمارتوں۔۔ مقبرہ جہانگیر، شالا مار باغ، سمادھ مہاراجہ رنجیت سنگھ،سماج گورو ارجن دیو جی، بادشاہی مسجد، اور شاہی قلعہ کا بیان بھی بہت دلچسپ ہے۔ گلاب سنگھ اندرون شہر، اس کے مختلف بازار وں، محلوں اور وہاں موجود مختلف عمارتوں اور ان کی تاریخ کو آسان اور سلیس زبان میں بیان کرتے ہیں۔لاہور کا موسم، لاہور کے اردگرد موجود نہریں اور ندی نالے، ضلع لاہور کی سیر بذریعہ ریل، لاہور کا موسم اور لاہور سے متعلق ہر تفصیل پروفیسر گلاب سنگھ کی اس کتاب میں موجود ہے۔
اس کتاب کو سید فیضان عباس نقوی نے مرتب کیا ہے۔
کتاب: سیر لاہور
مصنف: رائے صاحب منشی گلاب سنگھ
لاہور پر مختلف ادوار میں غزنوی، غوری، مغل،ابدالی اور سکھ حکمران رہے لیکن سولہویں صدی کے اواخر اور اٹھارویں صدی کی ابتدا تک مغل دور اقتدار میں لاہور کو بہت زیادہ اہمیت رہی کیونکہ مغلوں نے کچھ سالوں تک اس کو اپنا دارالحکومت بنایا تھا۔
انیسویں صدی کے اوائل میں جب رنجیت سنگھ نے پنجاب پر اپنی حکومت قائم کی تو اس نے اپنی سرکار کو لاہور دربار کا نام دیا تھا۔رنجیت سنگھ کے دور اقتدار نے لاہور کو نئی شناخت دی اور لاہور نہ صرف ہندوستان بلکہ بین الاقوامی طور پر بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگیا تھا۔
سکھ سلطنت کے انہدام کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں تاج برطانیہ لاہور پر قابض ہوا تو لاہور کی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ اب لاہور برصغیر کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تحریکوں کا اہم مرکز بن گیا تھا۔کوئی سیاسی اور سماجی تحریک اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی تھی جب تک کہ لاہور اس تحریک کی تائید نہیں کرتا تھا۔برطانیہ سے مکمل آزادی کی قراردار ہو یا قیام پاکستان کی قرارداد دونوں ہی لاہور میں منظور ہوئی تھیں۔
برطانوی عہد کا لاہور متعدد مذاہب، متنوع ثقافتوں اور لسانی شناختوں کا مرقع تھا۔ خوبصورت مندر، عالی شان مساجد، گردوارے اور چرچ اس کی پہچان تھے۔ لاہور کے تعلیمی ادارے اور اس کے کشادہ اور روشن بازار اور باغات اس کو پورے برصغیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
لاہور کی پہچان جہاں اس کی ماضی کی شاندار تاریخ ہے جس کے آثار و باقیات آج بھی ہم میں موجود ہیں اور دوسرے وہ اہل علم ہیں جنھوں نے لاہور کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔انھوں نے لاہور بارے اپنے تذکروں اور یادداشتوں میں جس انداز میں لاہور کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا ہے اس نے لاہور کو زندہ جاوید بنادیا ہے۔
برطانوی قبضے کے بعد لاہور بارے سب سے پہلی کتاب مولوی نور احمد چشتی نے 1868میں تحقیقات چشتی کے عنوان سے لکھی تھی۔ نوراحمد چشتی کی یہ کتاب لاہور بارے معلومات کا خزانہ ہے۔ لاہور بارے اس کے بعد جو دوسری کتاب لکھی گئی وہ رائے بہادر کنہیا لعل ہندی کی تاریخ لاہور تھی جو اپنے مواد اور زبان و بیان کے اعتبار سے آج بھی بہت مقبول ہے۔ اندرون شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے سید محمد لطیف کی تاریخ لاہور، کرنل بھولا ناتھ وارث کی تاریخ شہر لہور اور منشی محمددین فوق کی مآ ثر لاہور،لاہور کی تاریخ پر بہت اہم کتابیں ہیں۔ ان کتابوں میں لاہور کی تاریخ، تاریخی عمارتوں، مذاہب، ثقافتوں اوراس کے وسنیکوں کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا گیا ہے۔
تقسیم ہند کے بعد لاہور سے بحالت مجبوری نقل مکانی کرنے والے ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم لکھاریوں نے اپنی جنم بھومی لاہور سے زبردستی جدا کئے جانے کے غم اور اداسی کو اپنی یاداشتوں میں سمویا۔ان میں سوم آنند کی’کہاں گیا میرا شہر لاہور‘،گوپال متل کی’لاہورکا جو ذکر کیا‘، سنتوش کمار کی ’لاہور نامہ‘ ایسی کتابیں ہیں جن میں لاہور کا وہ رنگ نظر آتا ہے جو ہم اب ہمیشہ کے لئے کھو چکے ہیں اور یہ وہ لاہور تھا جو آج کے فرقہ ورانہ تنازعات اور بنیاد پرستی کی فضا میں لتھڑے ہوئے لاہور کے مقابلے میں ایک خواب لگتا ہے۔
’سیر لاہور‘ پروفیسر گلاب سنگھ کی تحریر کردہ ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ جغرافیہ کے استاد تھے۔ یہ کتاب انھوں نے 1936 میں لکھی تھی جو سکول کے ابتدائی کلاسز کے طلبا کے لئے تھی۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے طلبا کے ذہنی معیار اور صلاحیت کے پیش نظر رکھتے ہوئے لاہور کی نہایت آسان پیراے میں لاہور کی سیر کروائی ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے لاہور کی تمام قابل ذکر عمارتوں۔۔ ٹاون ہال،عجائب گھر، اسمبلی ہال، چڑیا گھر، گورنر ہاوس کو متعارف کروایا ہے۔ لاہور کی تاریخی عمارتوں۔۔ مقبرہ جہانگیر، شالا مار باغ، سمادھ مہاراجہ رنجیت سنگھ،سماج گورو ارجن دیو جی، بادشاہی مسجد، اور شاہی قلعہ کا بیان بھی بہت دلچسپ ہے۔ گلاب سنگھ اندرون شہر، اس کے مختلف بازار وں، محلوں اور وہاں موجود مختلف عمارتوں اور ان کی تاریخ کو آسان اور سلیس زبان میں بیان کرتے ہیں۔لاہور کا موسم، لاہور کے اردگرد موجود نہریں اور ندی نالے، ضلع لاہور کی سیر بذریعہ ریل، لاہور کا موسم اور لاہور سے متعلق ہر تفصیل پروفیسر گلاب سنگھ کی اس کتاب میں موجود ہے۔
اس کتاب کو سید فیضان عباس نقوی نے مرتب کیا ہے۔
کتاب: سیر لاہور
مصنف: رائے صاحب منشی گلاب سنگھ
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.5 ★★★★★
Based on 28 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 4
Timberland Leather Wallet
Decent quality leather, fits nicely in my pockets. The only thing was that it had a strange smell out of the box and took a while to go away.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on July 11, 2025
★★★★★ 5
Timberland Made It
Size: One Size, Color: Black (Money Clip)
It was ok the look was pretty my husband loved it it had great capacity the RFID protects his information perfectly haven’t had a problem there it’s very durable he loves the way it clips to his pocket and his cards and money was very easy to get to and the price was perfect he loved it and he loved that it was made by timberland
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on November 18, 2025
★★★★★ 5
A nice sized wallet for front pocket keeping, holds the essentials & more quite well
Size: One Size, Color: Brown (Money Clip) 2
I like that I can keep cash, credit cards, ID and ATM cards all safely secured in this combo wallet/money clip that fits nicely in a back or front pants pocket (I keep mine in my front pocket). I've gotten this brand/style before, probably 6-8 years ago and it's the only wallet I'll use. I needed to replace mine as the spring metal clip does eventually wear through the leather at the rounded end of the money clip, but mine still functions just fine (I just wanted a new one for the holidays!) A well-made wallet and one I'll keep using and getting as long as I can find them.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on December 20, 2021
★★★★★ 5
Supple leather with a compact design.
Size: One Size, Color: Black II (Money Clip), Size: One Size, Color: Black II (Money Clip)
This is exactly what I was looking for and the price??? Unbelievably low. I saw a Carhartt one that I liked, but I didn’t care for the waxy look of leather on it so I looked on their website and they only offered it in that. I searched front pocket wallet on Amazon and I purchased this. It is a higher-quality leather, the price tag inside says $55. I paid under $18. The one thing I did like about the Carhartt one, it had a magnetic strap for the cash where as this one has a fixed money clip, but I see no problems with the design. Very minimalist design.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on August 16, 2025
★★★★★ 5
Timberline pocket Wallet
Size: One Size, Color: Brown (Money Clip) 2
good deal excellent product
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on July 22, 2025
recommand products
Fuel Filter Element High Flow Fuel System Universal Fit Aeromotive 12609-BGPL
47.20
O-Ring Assortment Performance Fuel System Universal Fit Aeromotive 15623-BGPL
14.59
Fuel Hose Fitting Fuel System Universal Fit Aeromotive 15695-BGPL
40.62
Fuel Filter Element High Flow Fuel System Universal Fit Aeromotive 12610-BGPL
34.57
Weiand Speed Warrior Intake - Chevy Small Block V8 - 8170P
292.48