پاکستان میں تہذیب کا ارتقا |  سبط حسن
SKU: 25816561836

پاکستان میں تہذیب کا ارتقا | سبط حسن

Sale price$762.75 Regular price$847.50
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 7 - Jul 12

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

پاکستان میں تہذیب کا ارتقا | سبط حسن( ) (pluralism)

پاکستان میں تہذیب کا ارتقا از سبط حسن -چند تاثرات
تہذیب کیا ہے؟ریاست اور قوم میں کیا فرق ہے ؟ ریاست کی سرحد تو جغرافیہ کی مدد سے مقرر کی جاسکتی ہیں لیکن قوم کی کوئی سرحد ہو سکتی ہے؟مادی اور جغرافیہ عوامل تہذیب و تمدن کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟آیا ہم پہلے پنجابی ہیں یا پاکستانی یا پھر مسلمان ؟پاکستان کی کوئی تہذیبی شناخت وجود رکھتی ہے یا محض قومی وحدت برقرار رکھنے کی ریاستی مجبوری سے زیادہ کچھ نہیں؟
سبط حسن نے ان تمام سوالات پر سیر حاصل بحث سے اس کتاب کا آغاز کیا ہے۔پاکستان کی جغرافیائی حدود میں پنپنے ، پروان چڑھنے اور شکست و ریخت کا شکار ہونے والی ان تمام تہذیبوں کا تجزیہ تاریخی اور مادی عوامل کے تغیر سے کیا گیا ہے۔ وادی سندھ کے زمانے سے لے کر مغلوں کے زوال تک کا تین ہزار سالہ تاریخی سفر نہایت سہولت سے بیان ہوا ہے ۔وادی سندھ کی قدیم تہذیب ، آریائی حملے ، یونانی، ساکا ،پارتھی ، کشن اژرات، پھر سندھ میں اسلام کا آغاز، ایران و ترک تسلطنت ،سلاطین دہلی اور مغلوں کے زوال سے انگریز کی آمد۔ان سب الگ الگ باب میں بات کی گئی ہے۔محمد بن قاسم کی سندھ پر مہم سے پہلے امیر معاویہ کے دور میں بھی دو مہمیں ہند کو فتح کرنے کے لیے بھجیں گئیں مگر وہ ناکام لوٹیں ۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو مقامی بودھ قبائل کی مدد سے سندھ میں شکست دی ۔ ان پودھ قبائلوں کی حکومت راجہ چچ (راجہ داہر کا باپ)نے غصب کی تھی ۔ یہی اس زمانے کا دستور تھا کہ مغضوب گروہ کسی طاقتور حملہ آور سے مل جاتا اور اپنے پرانے بدلے چکاتا ۔ ابراہیم لودھی سے بھی جب اس کے پٹھان امراٗ نا خوش ہوئے توبابر کو بلاوا بھیجا کہ بھئی آ اور اس سالے سے ہماری جان چھڈا مگر وہ ایسا آیا کہ پھر اگلے کئی سو برس تک ہندوستان میں باہر سے کوئی حملہ آور نہ آسکا۔ اسی کے خاندان نے حکومت جمائی۔ٹیکسلا کا زمانہ قدیم میں علم پرور شہر سے زمانہ جدید میں توپوں و ٹینکوں کی فیکٹری والے شہر کا سفر بھی از حد دلچسب ہے۔
تہذیب حملہ آوروں کی مار کٹائی کا نام نہیں بلکہ حملہ آوروں اور مقامی انسان کی باہمی میل ملاپ سے جنم میں آنے والے سماج کا نام ہے ۔اس تہذیب کو سینچنے میں لوگوں کا رہن سہن ، مذاہب کی ادلا بدلی ، فن تعمیر ،نظام فکر و احساس اور فنون لطیفہ سب کا اپنا اپنا حصہ ہے ۔ کیسے مذہب پر قابض راجائوں اور پنڈتوں کے زیر عتاب طبقے نے اسلام کو خوشی خوشی قبول کیا۔ملتان میں کئی ایسے اسماعیلی داعی آئے جنھوں نے اسلامی عقائد کی ترویج مقامی زبانوں میں کی۔صوفیا ریاستی مولویوں کے نشانے پر رہے ۔ مولوی مذہب کا ٹھیکے دار بنا رہا ۔ عوام کو دوزخ سے ڈرایا اور خود بادشاہ سے ڈرا۔مال و متاع کے لیے مذہب فروشی کی ۔آج بھی کرتا ہے ۔ ہندوستان میں کئی تہذیبیں آئیں اور اپنا وقت پورا کر کے فنا ہو گئیں ۔ لیکن اس ارتقائی عمل میں ان کی کئی نشانیاں باقی بچ گئیں جن سے تہذیب کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ شیر شاہ سوری ،مادھو لال حسین ،امیر خسرو، بھگت کبیر ، داراہ شکوہ ، اکبر و اس کے نو رتن ، چند پرشکوہ عمارات اور بہت سے گمنام اس کہانی کے نمایاں کردار ہیں۔
مملکت خدادا کے شناختی بحران کے تار و پود بھی اسی تہذیب کے ارتقائی عمل میں پیوستہ ہیں۔گزرے ہوئے کل کو سمجھنا گویا حال کو سمجھنا ہے۔نظریہ ضرورت کے تحت وضع کردہ شناخت کی ریاستی پروپیگنڈا سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں ۔جن گروہوں کا مفاد وحدت اور اکائی کے ڈھکوسلے سے جڑا ہے وہ اسی کا راگ الاپتے رہتے ہیں اور جو طبقات صوبائیت پرستی اور تکژیریت(pluralism) میں اپنا منافع دیکھتے ہیں وہ اسی کا ڈھول پیٹتے ہیں۔جاگیردار کبھی بھی وحدت نہیں چاہے گا کیونکہ یہ اس کے جبر کو سوٹ ہی نہیں کرتی اسی طرح سرمایہ دار وحدت کا حامی ہو گا ۔ایک ملک ایک قوم کا راگ الاپتا رہے گا کیونکہ منڈی کا بھاگ سرمایہ ہے اور وہ مال بیچنے سے آتا ہے۔ یہ نعرے طبقات کی باہمی کشمکش کا ایندھن ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔آج اس ملک میں بسنے والے باشندہ شناخت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے دشمن بنے بیٹھے ہیں ۔ سبط حسن صاحب کی کتاب ہر اس شخص کو لازماً پڑھنی چاہیے جو خود کو ریاستی شناخت کے مسلط کردہ جبر سے ذہنی طور پر ہے آزاد کرنا چاہتا ہے ۔ضرور پڑھیں ۔ کراچی سے مکتبہ دانیال نے پبلش کی ہے ۔
فرقان وحید
Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 25816561836

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.2 ★★★★★
Based on 1593 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
J
Verified Purchase
Jack
Waukegan, US
★★★★★ 5
No comment
Format: Hardcover
My grandkids loved it I read it over and over to them
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 20, 2021
W
Verified Purchase
W'sgigi
Natrona Heights, US
★★★★★ 5
Grandson loves this book & so do I!
Format: Hardcover
Great book! My 5yr old grandson cracks up when we read it.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 20, 2020
C
Verified Purchase
C.L.
Fort Morgan, US
★★★★★ 5
Wonderful!
Format: Hardcover
Absolutely hilarious for all ages
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on September 12, 2021
L
Live Outside
Los Angeles, US
★★★★★ 5
Father and son both have a great imagination
Format: Hardcover, Format: Hardcover
I think Little Fox showed his father, Poppa Fox that he also some great imagination in this cute picture book by Jorma Taccone. I had to laugh as I read this book as I could totally relate to how Poppa Fox felt. As a parent, or just a human being, you feel like you’re doing the right thing, having fun and then bam, you’re thinking aww, what just happened? I thought it was sweet when Poppa Fox played pretend with Little Fox on their way home from school. Having a rough day at school, Little Fox needed something to make him happy again and his father was doing just that. Using father’s imagination, the two of them, pretended to be race cars as they raced off to the bus stop. As the night wore on, this game of pretend continued, only now Little Fox was getting more involved. What started out as a fun, friendly game was now turning violent, messy and involved, leaving Poppa Fox picking up the pieces. I liked how the book progressed from a fun friendly game to an intense involved event. I think the illustrations fit perfectly with the text as you could see this transformation and the drama unfolded right before your eyes. The text fonts were great too as they varied in sizes, shapes and colors depending on the situation. I enjoyed Poppa Fox patience as he handled the situation with his son, Little Fox. I had to laugh when Little Fox wanted his father to read to him 5,000 books before he went to bed. Now, wouldn’t that be a nice library for a child to have in their house? There is some violence in the book as they play pretend, so you may want to consider this, if that bothers you but it is pretend. I thought this was a fun, entertaining read and I highly recommend it.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on December 2, 2020
K
Kindle Customer
Carnegie, US
★★★★★ 5
Really magical!
Format: Kindle
I loved everything about this book from the illustrations to the all the scenarios. I especially loved Poppa Fox's and Little Fox's relationship. A wonderful father-son duo. 😊
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on September 27, 2020

recommand products