SKU: 42998779680

آواز عصر | Awaz Asr

Sale price$270.00 Regular price$300.00
Save 10%

Pay in installments of $75.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 25 - Sep 30

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

آواز عصر | Awaz Asr: ( )

ارشد محمود کی آواز عصر

تحریر: لیاقت علی

ارشد محمو د پاکستان کے روشن خیال اور خرد افروزی کے داعی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ مسلسل کئی سالوں سے پاکستان کے سیاسی، نظریاتی اور فکری مسائل کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی ان مسائل کے حوالے سے ایک سوچی سمجھی رائے ہے جسے وہ مدلل انداز میں بلا جھجک بیان کرتے ہیں۔ ان کی فکر ی ترجیحات اور ان کی اپروچ سے اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن جس ثابت قدمی سے وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اورجس بہادری اور بیباکی سے اس کا اظہار کرتے ہیں، اس کی تحسین نہ کرنا تنگ دلی کے سوا کچھ نہیں۔

سوشل میڈیا پر وہ بہت متحرک ہیں۔ شائد ہی کوئی دن ایسا ہو کہ ان کے فیس بک پیج پر ان کی کوئی نئی تحریر موجود نہ ہو ۔لکھنا ان کے لئے شوق سے زیادہ مشن کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کو نظریاتی اور سماجی تبدیلی کے لئے بہت اہم خیال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔

چند سال پہلے تک سوشل میڈیا عوام کی نچلی پرتوں کی دسترس سے باہر تھا ۔ ان دنوں عامتہ الناس کو اپنے خیالات و نظریات سے روشناس کرانے کا ذریعہ کتاب ہی تھی۔ ارشد محمود نے اپنے خیالات اپنی کتابوں کی صورت عام لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کیا تھا۔ انھوں نے تین کتابیں لکھی ہیں جن میں پاکستان کی مذہبی ، سماجی اور نظریاتی صورت حال کے مختلف پہلووں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ان کی پہلی کتاب ’ تصور خدا‘ تھی جس میں انھوں نے مختلف تاریخی ادوار میں ’تصور خدا‘ کی ابتدا، نشوو نما اور ارتقا کا جائزہ لیا ہے۔ان کا موقف ہے کہ’ تصور خدا‘ کوئی ساکت و جامد تصور نہیں ہے بلکہ مختلف ادوار اور مذاہب میں ’تصور خدا‘ مسلسل ترقی پذیر رہا ہے۔ ماضی بعید میں ’خدا‘ سے جو خصوصیات و صفات وابستہ کی جاتی تھیں زمانہ جدید میں ان کی نوعیت بالکل بدل چکی ہے۔

ان کی دوسری کتاب ثقافتی گھٹن اور پاکستانی معاشرہ ‘تھی جس میں انھوں نے سماجی پسماندگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ثقافتی گھٹن کو موضوع بنایا ہے۔ ثقافتی گھٹن کے نتیجے میں جو اخلاقی بگاڑ جنم لیتا ہے ارشد محمود نے اپنی کتاب میں اس کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ اپنی تیسری کتاب ’ تعلیم اور ہماری قومی الجھنیں‘ میں انھوں نے ہماری تعلیم کے نتیجے میں جو مائنڈ سیٹ تشکیل ہوا ہے اس کواپنی بحث کا موضوع بنایا ہے۔

ہمارے نظام تعلیم کی بدولت جو مائنڈ سیٹ متشکل ہوا ہے تعصب، حسد ، ہر نئے خیال سے خوف ،محصور ذہنیت اور خودساختہ برتری اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ زیر نظر کتاب ’آواز عصر‘ ارشد محمود کے متفرق مضامین کا مجموعہ ہے۔ مجموعہ میں شامل کچھ مضامین تو وہ ہیں جو گاہے گاہے مختلف جرائد ورسائل میں چھپ چکے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو مصنف نے اپنے فیس بک پیچ پر پوسٹ کئے ۔

ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے اس کی بدولت اذہان میں بہت سے فکری مغالطے ، مبالغے، جامد عقائد ، جھوٹ اور غلط بیانی سے آلودہ خیالات اپنے پاؤں جما چکے ہیں۔ان جامد اور تعصب سے لبریز عقائد کے خلاف قلمی جنگ ضروری ہے تاکہ عام لوگوں کی بالعموم اور تعلیم یافتہ افراد کی بالخصوص سوچ،فکر کو ابہام اور فرضی قصے کہانیوں کے گورکھ دھندوں سے نجات دلائی جاسکے ۔ ارشد محمود کے یہ مضامین انہی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں ۔

مغربی تہذیب کے بارے میں ہمارے ہاں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی معاشرہ ’جنسی بے راہ روی کا شکار ‘ ہے۔ زنا اور قانونی تعلق کے بغیر بچوں کی پیدائش اور خودغرضی ہمارے نزدیک مغربی معاشرے کی اہم اور لازمی خصوصیات ہیں۔ ارشد محمود اس تصور کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مغرب میں عورت کی عزت جتنی محفوظ ہے اتنی کسی ایسے معاشرے میں نہیں جو خود کو پاکباز سمجھتا ہے۔وہاں جوان لڑکیا ں تن تنہا دور دراز کے ممالک کا سفر کرتی ہیں۔ ہوٹلوں میں بسا اوقات اجنبی مردوں کے ساتھ روم شیئر کرتی ہیں لیکن کیا مجال کہ کسی کے ساتھ کوئی زبردستی کر جائے‘۔

اس کے بر عکس ہمارے ہاں ایسا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ہاں زنا بالجبر روزمرہ کا معمول ہیں حتی کے نابالغ لڑکیاں بھی اس ظلم و زیادتی سے محفوظ نہیں ہیں۔ یہاں ہر سال غیرت کے نام پر سینکڑوں عورتوں کو ان کے قریبی عزیز قتل کر دیتے ہیں ۔ اکیلی عورتوں کے لئے سفر کرنا جان جو کھوں کا کام ہے۔ شرافت، حیا اور پردے کے نام پر ہمارے نوجوان جنسی مریض بن چکے ہیں۔ مغرب میں لوگ زندگی ( خوشیوں سے بھرپور) گذار رہے ہیں جب کہ مشرق میں ارشد محمود کے بقول’ لوگ زندگی عذاب کے طور پر گذار رہے ہیں ‘۔

مسئلہ کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی بدولت پاکستان اور بھارت کے مابین تین مکمل اور دو ادھوری جنگیں ہوچکی ہیں ۔ گذشتہ ستر سال سے یہ مسئلہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ اس مسئلے کے بارے میں بھی ارشد محمود کی سوچ عقلی اور عملی ہے۔ وہ پاکستانی قوم پرستی کی بجائے اس مسئلے کو حقائق کی عینک سے دیکھتے ہیں ۔ان کا موقف ہے کہ کشمیر کو الجھانے میں زیادہ ہاتھ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا ہے۔ سیاسی اور فوجی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہمیشہ اس مسئلے کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ کشمیر کے عوام کو اگر کبھی یہ موقع ملا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر یں تو ارشد محمود کا خیال ہے کہ وہ دونوں۔پاکستان اور بھارت کے ساتھ رہنے کی بجائے آزاد ی حاصل کرنا چاہیں گے۔

ارشد محمود سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کو کشمیر کے نام پر مفاد پرستوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور بھارت باہم مذاکرات کریں اور بتدریج تمام متنازعہ امور کو حل کی طرف لے کر جائیں۔ یہ کہنا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات ٹھیک نہیں ہوسکتے، غیر حقیقت پسندانہ حکمت عملی ہے۔

ارشد محمود نے اپنے ایک مضمون ’ہماری سکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ کے اسلامی ہیروز‘ میں ان غیر ملکی حملہ آوروں کی حقیقت بیان کی ہے جنھیں ہماری نوجوان نسل بغیر جانے اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ ہمارے نصاب تعلیم کے صدقے جائیے جس کی بدولت ہم نے اپنی نوجوان نسل کویہ باور کرادیا ہے کہ بیرونی حملہ آور جو حادثاتی طور پر مسلمان تھے ہمارے ہیرو ہیں ۔ یہ اس تعلیمی نصاب کا پھل ہے کہ ہمارے سکیورٹی ادارے اپنی پیشہ ورانہ مشقوں اور ہتھیاروں کو ان بیرونی حملہ آوروں کے ناموں سے منسوب کرتے ہیں۔

ہمارے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ محمود غزنوی اسلام کا شیدائی اور مجاہد تھا ۔ ہندوستان پر اس نے جو سترہ حملے کئے تھے وہ ’اسلام کا پیغام پھیلانے‘ کے لئے تھے نہ کہ لوٹ مار کی غرض سے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے اسلامی مورخین نے غزنویوں کے قاتل اور ان کی حکومت کا تختہ الٹنے والا شہاب الدین غوری کو بھی’ مجاہد اسلام‘ قرار دے رکھا ہے۔ حالانکہ ان بیرونی حملہ آوروں کا کوئی دین ایمان نہیں تھا ۔ لوٹ مار ہی ان کا مذہب اور قتل و غارت گری ان کا مشن تھا ۔ ان کے راہ میں رکاوٹ بننے والا خواہ مسلمان ہوتا یا کوئی دوسرا مذہبی عقیدہ رکھنے والا یہ اس کا قتل انتہائی سفاکی سے کر دیتے تھے۔

محمود غزنوی کی اسلام سے محبت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بغداد کا بھی وہی حشر کرنا چاہتا تھا جو اس نے سومنات کے مندر کا کیا تھا۔ اسے ستم ظریفی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ہماری سکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ نے ان لیٹروں کو اپنا ہیرو بنا رکھا ہے اور ان کے نام پر ہم نے اپنے میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے نام رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری عسکری اشرافیہ کا ایک اور ہیرو احمد شاہ ابدالی بھی ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ اس نے دلی کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی اور لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا تھا ۔یہ احمد شاہ ابدالی کے حملے ہی تھے جس نے دلی کی مغل باد شاہت کو کمزور کیا اور ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کی راہ ہموار کی تھی ۔

ارشد محمود کے یہ مضامین غیر روایتی سوچ و فکر کے حامل ہیں ۔ یہ اپنے پڑھنے والوں کو غورو فکر کی نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں ایسی دنیا جو عقل، معروضیت اور عملیت پسندی سے تشکیل پاتی ہے ۔ یہ مضامین ان فکری الجھنوں کا پر دہ چاک کرتے ہیں جنھوں نے ہماری نوجوان نسل کے اذہان کو اپنی گرفت لے کر ترقی اور خوشحالی کی راہ روک رکھی ہے ۔ امید ہے یہ مضامین غورو فکرکے نئے در وا کرتے ہوئے جامد عقائد میں جکڑے ہمارے سماج میں فکری گشادگی کا باعث بنیں گے۔

 

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 42998779680

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.8 ★★★★★
Based on 25 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
T
Verified Purchase
Tim
Los Angeles, US
★★★★★ 5
best way to buy them
Size: CRV 2017-22 1.5L Gas
good product handy package at a good price convient to have the engine and cabin filters together
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 14, 2026
D
Verified Purchase
Dallas Jones
San Leandro, US
★★★★★ 5
easy to install
Size: CRV 2017-22 1.5L Gas
quality filter and reasonable priced
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 1, 2026
R
Verified Purchase
Rafael A
Los Angeles, US
★★★★★ 5
⭐⭐⭐⭐⭐ Perfect fit and clears well
Size: H309 (12")
I purchased the BOSCH H309 OE Specialty rear wiper blade as a replacement, and it fit perfectly. Installation was quick and easy, and it snapped right into place without any issues. The wiping performance is excellent. It clears the rear window smoothly and evenly, with no streaking or skipping. Even in heavier rain, it does a great job keeping the glass clean and clear. The build quality feels solid, which is what I expect from Bosch. After regular use, it’s still performing well and hasn’t shown any signs of wear. Overall, this is a high-quality rear wiper blade that works exactly as intended. Easy to install, great performance, and reliable quality. I would definitely buy it again.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on December 15, 2025
B
Verified Purchase
Brianna Fielder
Lexington, US
★★★★★ 5
Great Pick
Size: H326 (13")
Fits perfect for my 2006 Hyundai Santa Fe. Doesn’t leave streaks and doesn’t make much noise compared to my old one. Had an awful storm and it kept up well and was shockingly durable. It offers good coverage on the rear windshield and is clear enough that I can still see.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 24, 2026
K
Verified Purchase
Ken L.
Whiting, US
★★★★★ 5
Easy Install, Clear Wipe, So Far So Good
Size: H354 (14")
I put this on a 2016 Honda Pilot, and installation was quick and simple. It took me about a minute to remove the old blade and snap the new one into place. Your time may vary depending on how familiar you are with your rear wiper setup, but if you’ve swapped one before, this should be straightforward. It’s only been on for a couple of weeks, but we’ve had a good mix of rain and car washes during that time, and it’s been wiping clean with no streaks. No squeaking, no smearing. Shipping was on time, packaging was standard, and the price felt fair compared to other options I looked at. I know some Honda forums recommend just replacing the rubber inserts and sticking with OEM parts, but I didn’t know what brand was on the vehicle before. I ended up choosing Bosch mostly based on price and availability. For a rear wiper, it felt like a low-risk upgrade, and so far, I have no complaints. The only thing I’d point out is that these blades come with a 30-day warranty, which doesn’t leave a lot of room to see how they hold up over time. That said, after the first couple of weeks, everything looks and performs just fine.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on August 7, 2025

recommand products