SKU: 53690403724

عظیم ہمالیہ کے حضور | Azeem Humaliya Kay Hazor

Sale price$180.00 Regular price$200.00
Save 10%

Pay in installments of $50.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 27 - Oct 2

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

عظیم ہمالیہ کے حضور | Azeem Humaliya Kay Hazor. : 4 12 2020

قمر خان
بھینس کی طرح کھلے میدانوں میں چرنے کے بعدتالاب میں نہانا بلکہ کیچڑ میں لت پت ہونا ، مالیوں کے باغ سے سیب اور گالیاں کھانا، دھوپ میں لیٹ کر جگالی کرنا اور سر شام ماں کے کوسنے اور ’’ڈوٹے ‘‘ کھا کر سو جانا۔ایسے شب و روز میں سفر کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ضرورتاً پنڈی جانا پڑتا تو منگ کے مقام پرقبضہ مخالفانہ چھڑانے کے لیے مارکھانا پڑتی اور دوچار میل کھڑے رہ کر سفر بھی کرنا پڑتا۔عقل آنے پر عالم یہ تھا کہ رات کے پچھلے پہرمنگ پہنچنے پربا ادب کھڑے ہو جاتے۔’’آئیے جناب یہ سیٹ ہم پنڈی سے آپ کے لیے ریزرو کروا کہ لائے ہیں۔آئیے تشریف رکھیے ‘‘۔ پہلی بار کراچی جانا ہوا تو آغاز سفر میں ہی لڑائی ہو گئی۔نتیجۃً وزیر آباد کے مقام پر ریلوے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ دے دلا کر جان چھوٹی اور تیسرے دن کراچی پہنچے۔اسی لیے سفر سے چڑ ہے۔ لہٰذا جب بھی سفر کیا بامر مجبور ی کیا۔ شوقیہ سفر کے ماروں سے ہماری کبھی نہیں بن پائی۔ ہمیں تو بھینس نما لوگ چاہئیں جو بیٹھ جائیں تو اٹھنے کا نام نہ لیں۔مگر ہمارے بیٹھنے پر بھی بزرگوں کو اعتراض رہتا تھا۔ کبھی آملوک یا اخروٹ کے اونچے ، سوکھے ٹہنے پر بیٹھ گئے ،کبھی ’’ادھ کندی‘‘پر یا مکان کی چھت پر۔ بزرگ کہتے ’’کیوںکِلیوں پر انڈے دے رہے ہو‘‘؟ تب سے ہم نے ’’کِلیوں ‘‘کی بجائے سکول میں انڈے دینا شروع کر دیے۔ مگربرادرم جاوید خان کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ کوئی پڑھا لکھا آدمی ہے۔آج کا مضمون لکھنے کی نوبت نہ آتی تو یہ بھرم تادیر قائم رہتامگر حقیقت کب تک چھپ سکتی ہے۔سفر ہمیں کسی صورت راس نہیں آتا۔ نیند اور تھکاوٹ سے حالت خراب ہو جاتی ہے۔ کھانے کو ڈھنگ کا ملتا ہے نہ پینے کو۔ بڑی ائر لائنوں میں بھی پینے کے لیے چلّو بھر پانی ملتا ہے۔اور کچھ ہو نہ ہو قبض تو لازم ہو جاتی ہے۔ایک دن رات کا سفر ایک ہفتہ خراب کر دیتا ہے۔ سوسفر کے تذکرے سے جس نامراد کی طبیعت خراب ہونے لگے اگر اسے سفرنامہ پڑھنا پڑے تو خود اندازہ کیجیے کہ اس پر کیا گزرے گی۔اور سفر نامہ بھی یورپ، امریکہ کے رنگین گلی کوچوں کی بجائے …ہمالیہ کے سنگلاخ پہاڑوں کا ہو تو سمجھ لیجیے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی خیر نہیں۔قاری نہیں یا سفر نامہ نہیں۔یہ سفر بھی کوئی آسان سفر نہ تھا۔خصوصاًایسے دنوں میںجب کسی کو کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر اُبکائیاں آتی ہوں، جی متلاتا ہو اور نیند بھی ٹھیک سے نہ آتی ہو، سفر سے پرہیز کرنی چاہیے۔چہ جائیکہ اس قدر پر خطر راستوں پر نکل جائیں۔چلو جو ہوا سو ہوا، مٹی پاؤ۔ مٹی پالیتے اگر بات سفر تک ہی رہتی۔ مگراتنے مشکل سفر کا روزنامہ بھی لکھ دیا۔ یقیناعام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ مصنف موصوف نے کتاب پر اس قدر محنت کی ہے کہ اس کی نوک پلک سنوارنے میں ان کی کئی ہفتے لگے ہو ں گے۔ بہرحال جتنی محنت کرنی تھی کر لی اب تو محنت کا میدان بدل گیا ہے۔
کتاب پڑھنے سے پہلے یہ خیا ل مسلسل تنگ کرتا رہا کہ مصنف سفرنامے کی بجائے کچھ اور بھی تو لکھ سکتے تھے۔ مگر جب سفر نامہ پڑھنا شروع کیا تو رائے بدلنا پڑی۔ عظیم ہمالیہ کے حضور‘ مصنف کی پہلی تصنیف ہے۔اور خوبصورت تصنیف ہے۔لفظوں کا چناؤ اور منظر نگاری اپنی مثال آپ ہے۔خطے سے ان کی محبت ان کی تحریر سے ٹپک رہی ہے۔ انہوں نے پورے سفر کو اس . خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے کہ مجھ جیسے ’بیٹھوک‘ انسان کے دل میں پہلی بار سفر کا شوق پیدا ہواہے ۔ بلکہ اب رہ رہ کر یہ خیال ستا تاہے کہ آج تک ان خوبصورت چوٹیوں، گھاٹیوں ادر وادیوں کا سفر کیوں نہیں کیا۔کہتے ہیں جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ سفر نامہ پڑھنے کے بعد ہمارا کہنا ہے کہ جس نے ہمالیہ نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ ہمالیہ پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ بس ایک ہماری ہی نظر وں سے اوجھل ہے۔مصنف نے یہ سفر نامہ لکھ کر گویا ہمارے لیے ہمالیہ کو نئے سرے سے دریافت کیا ہے۔ اس سفر میں انہوں نے جو دیکھا اسے قارئین کو دکھانے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ سورج بابو سر چوک سے رخصت ہو چکا تھا۔مگر پار ہمالیہ اور ہندوکش کی چوٹیوں پر ابھی سنہری کرنیں باقی تھیں۔برف کا گھر حد نظر تک پھیلا ہوا تھا۔اس کی وسعت نظروں میں سمٹنے سے انکاری تھی۔سورج دیوتا کی کرنوں نے سفید و سرد گھر کے درو دیوار پر سرخ چادر ڈال دی تھی۔ساری برفیلی چوٹیوں کے لب ورخسار پر لالی پھیل گئی تھی۔جیسے ہزاروں دلہنیں سرخ دوپٹوں میں بناؤ سنگھار کیے بیٹھی ، شرمیلی مسکراہٹ لیے دیکھ رہی ہوں۔ہر چوٹی شام کی دلہن تھی ۔ ہر ایک کا حسن دوسری سے الگ تھا‘‘۔
’’ہندو کش اور قراقرم ادب سے دم سادھے عظیم ہمالیہ کے دربار میں کھڑے تھے اور اس وقت کی داستان سن رہے تھے۔پیر پنجال ایک معصوم بچہ لگ رہا تھا۔حاجی پیر کے چہرے سے بزرگی جھلک رہی تھی۔ہمالیہ نے کہا اس سطح زمین پر دیگر حیات کے ساتھ بالآخر حضرت آدم ؑ کا ظہور بھی ہوا۔میں نے اپنے قدموں میں بکھرے ان درّوں میں اولاد آدم ؑ کو سرکشی کرتے ،لڑتے مرتے اور پھر ابھرتے دیکھا ہے‘‘۔
’’اچانک نانگا پربت کے عین اوپر نیلے آسمان تلے شب کا پہلا ستارہ نمودار ہوااور اپنی روشنی کی نوکدار کرنیںنانگا پربت پر اتارنے کی کوشش کرنے لگا۔ستارے کی بلندی اپنی جگہ مگر نانگا پربت کے نوکیلے وجود کی قامت اور چمک کے سامنے تارے کی ایک نہ چلی تو آہستہ آہستہ ڈھیروں ستارے اس کی مدد کو نکل آئے…تاروں کی جھلملاہٹ بڑھ رہی تھی۔جھرمٹ کے جھرمٹ کہیں سے نکل کر آسمان پر پھیل رہے تھے۔ضرور یہ ستارے اپنی محفل آباد کرنے کو تھے۔ستاروں کی انجمن تلے نانگا پربت کا منجمد وجود بھی سفید نوکدار جھلملاتا ستارہ بن گیا تھا‘‘۔
مصنف نے چھوٹے چھوٹے اور گمنام علاقوں کا تفصیلاً تعارف بھی کروایا ہے۔ ایسی معلومات بھی شامل کی ہیں جن کے لیے الگ سے ایک کتابچہ لکھا جا سکتا تھا جو سیاحوں کے کام آتا۔مصنف نے قدرتی ماحول کی تباہی کا ذکر بھی جابجا کیا ہے۔اس اعتبار سے ان کی یہ تصنیف سفر نامے سے بڑھ کر ہے۔
ہم پہاڑیے لوگ فطرت کے پڑوسی ہیں۔ فطرت سے جو قربت ہمیں حاصل ہے کسی اور کو نہیں۔ مگر محسوس اسے جاوید نے کیا ہے۔ برف پوش چوٹیوںپر پڑنے والی کرنیں سورج کی ہوں یا چاند کی ،جاوید نے انہیں دیکھا اور محسوس ہی نہیں کیا ، اپنے اندرجذب بھی کیاہے۔ہمالیہ سے اس کی محبت جسم میں خون کی مانند دوڑ پھر رہی ہے۔لگتا ہے وہ اسی محبت میں گرفتار وہاں تک پہنچا ہے اور اسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے اپنی روئیدادسنائی ہے۔گو وطن کی محبت میں ہم بھی چاک گریباں ہیں مگر سچ پوچھیے توہمالیہ کو کبھی اس نظر سے نہ دیکھ پائے تھے جس نظر سے جاوید نے دکھایا ہے۔ وہ ہمالیہ کے درو دیوار پر دیوانہ وارپھرا ہے۔ دن رات پھرا ہے۔ اس نے راتوں کو اٹھ اٹھ کر سفید ہمالیہ کو چاندنی کا آنچل اوڑھے بھی دیکھا ہے ۔ صبح کاذب کے دھندلکے میںچھپا دیکھا ہے اور اندھیری رات میں اس کے پاؤں کو چھوا ہے۔ اس سے سرگوشیاں بھی کی ہیں، اپنے دل کا حال سنایا ہے، رویا بھی ہے ۔اس نے بوقت سحر ہمالیہ کی چوٹیوں پہ کھڑے ہو کر ہاتھ بھی پھیلائے ہیں اور خدا سے ہمالیہ کی عظمت ، اپنی مٹی کے وقار اور اور اپنی شناخت کی بھیک مانگی ہے۔ وہ ایک ایسا مسافرہے جس کا گریباں چاک ، دامن تار تار اور دل فگار ہے۔ وہ اپنی اس کیفیت کو بیان نہیں کر پایا۔ بیان کر بھی نہیں سکتا تھا۔ اور جو کچھ وہ بیان نہیں کر پایا دراصل وہی اس کا پیغام ہے۔اس پیغام پر میں بلامبالغہ مصنف کو کھڑے ہو کر سلام پیش کرتا ہوں۔ جاوید ایک عرصے سے لکھ رہا ہے اور جس شوق اور محنت سے لکھ رہا ہے یقینا وہ اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر کہ رہے گا۔
آزاد کشمیر میں اردو نثر لکھنے والے چند ایک ہی لوگ ہیں۔ یہ ایک افسوس ناک امر ہے۔مگر خوشی اس بات کی ہے کہ جو چند ایک ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ایسے ماحول میں نئے لوگوں کا نثرکی طرف متوجہ ہونا خوشی کی بات ہے۔جاوید کا سفر نامہ اس سمت میں اچھی پیش رفت ہے۔تکنیکی اعتبار سے میں کتاب پر کوئی رائے دینے سے اس لیے قاصر ہوں کہ میں تو بچوں کی کاپی بھی چیک نہیں کر سکتا۔ اتنا ضرور ہے کہ اپنی محرومیوں نے دل آنکھ ضرور کھول دی ہے۔ اور یہ آنکھ ایک ہی نظر میں ایسی کھلی آنکھیں دیکھ لیتی ہے۔ جاوید محبت کے راستوں کاکھلی آنکھ والا مسافر ہے۔کھلی آنکھ کے ساتھ زندگی کا سفر کوئی آسان سفر نہیں۔
4/12/2020
Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 53690403724

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.0 ★★★★★
Based on 23 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
A
Verified Purchase
Amazon Customer
Whiting, US
★★★★★ 5
Informative and Practical Guide
Format: Paperback
This book provides a clear and straightforward breakdown of investing in Section 8 housing. It covers everything from finding properties to understanding tenant selection and maximizing rental income. The information is practical and easy to follow, making it a great resource for both beginners and experienced investors. If you're interested in low-income housing investments, this is definitely worth reading
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 11, 2025
A
Verified Purchase
ABZ
Belleville, US
★★★★★ 5
Paramount Information
Format: Paperback
Esoteric book on becoming a section 8 investor. The uncertain times we are living in, the timing is now to rent out to section 8 tennants. McLean and Cipriano have shared mistakes and very helpful advice to be super successful. I was taken back and very grateful how helpful this book is.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 12, 2025
J
Verified Purchase
Jeff Schroeder
Fort Morgan, US
★★★★★ 4
Insightful, funny, but a bit unforgiving
This book is an absolutely no holds barred guide for preparing a current/future Section 8 Landlord for difficult situations and tenants. The authors own over 300 rental properties and prefer to remove anything and absolutely everything not strictly required for passing a property inspection. This means ripping out things like screen doors, washing machine hookups, dishwashers, etc. Following their method, you end up with a relatively spartan property that easily passes inspection. They're a bit light on the empathy side, but overall, this is still excellent business advice. The writer is also really funny and some of the anecdotal stories are great. Definitely worth the money! The only reason I'm giving it 4 stars is the Diversified Real Estate Investor Group papers (written by James M. Bennett) in Chapter 18 are incredibly difficult to read on a kindle (see the picture). Otherwise, this is a 5 star book full of excellent advice.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on August 28, 2016
K
Verified Purchase
Kathryn T.
Port Orchard, US
★★★★★ 5
Nuts and Bolts of Section 8 for Landlords
Format: Paperback
Learned so much from this book. Lots of practical information and entertaining to read. I bought all of the books by this team of do-it- your-selfers. They even include access to a rental contract they advertise as ironclad.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 25, 2025
C
Verified Purchase
Calif Kid
Lexington, US
★★★★★ 5
Very open. No BS
Format: Paperback
I normally dont give reviews unless the product is exceptionally well. I am learning and will enter into this area of real estate thanks to this book series. I have read and highlighted the hell out of book one. Because, of the plain talk this book is written in make it easier to understand. Great job. After I finish all 3 of these. I will order the other. Thank you for sharing you knowledge, expertise and experiences. You really tell people the truth and I wasn't expecting that. I was expecting some truth with alot of BS. You delivered.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on November 26, 2025

recommand products