SKU: 91056481586

فرہنگ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ Muhammad Umar Khan Farhang Talfuz Ka Tehqiqi Jaiza

Sale price$360.00 Regular price$400.00
Save 10%

Pay in installments of $100.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 26 - Aug 31

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

فرہنگ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ Muhammad Umar Khan Farhang Talfuz Ka Tehqiqi Jaiza: : " " " ( )" (Daniel Jones) " " " " ( ) " " " " " " " " 1995 2022 (Samuel Johnson) " " 2002 '' '' '' '' '' " " 2017 (Noam Chomsky) " "

فرہنگِ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ:

اردو لغت نویسی میں تنقیدی شعور کی بازیافت اور لسانی معیارات کا تحفظ

تحریر: شیخ عبدالرشید

اردو زبان کے لسانی تشخص، صوتیاتی نظم اور تہذیبی ارتقاء میں لغت نویسی کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی زندہ زبان کی علمی بقا کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے لغوی اور صوتی اصول کس قدر مستند اور سائنسی بنیادوں پر استوار ہیں۔ اس تناظر میں شان الحق حقی کی مرتب کردہ "فرہنگِ تلفظ" ایک ایسی دستاویز ہے جسے اردو کی مستند لغت نویسی میں ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ حقی صاحب نے بائیس جلدوں پر مشتمل "اردو لغت (تاریخی اصول پر)" کے صوتی نظام اور علامات میں موجود اسقام کو دور کرتے ہوئے ایک جدید، مربوط اور عملی صوتی ابجد پیش کی، جو اپنے عہد کی ایک بڑی لسانی دریافت تھی۔ تاہم، زبان کی تدوین ایک مسلسل عمل ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تجدید اور تنقیدی بصیرت کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ مشہور ماہرِ لسانیات ڈینیل جونز (Daniel Jones) نے بجا طور پر کہا تھا کہ "لغت زبان کے معیار کی محافظ اور صوتیات اس کی روح ہے"۔ اسی علمی تقاضے کے تحت گورنمنٹ کالج ساہیوال کے شعبہْ اردو کے سابق پروفیسر محمد عمر خاں کی کتاب "فرہنگِ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ"، جسے فکشن ہاؤس لاہور نے شائع کیا ہے، اردو لغت نویسی کی تاریخ میں ایک وقیع باب کا اضافہ ہی نہیں بلکہ گورنمنٹ کالج منٹگمری/ ساہیوال کے ماضی کی علمی و ادبی وجاہت کی نشاة ثانیہ کی طرف اہم قدم بھی ہے۔

یہ کتاب محض ایک فرہنگ پر تبصرہ نہیں بلکہ اردو کے لغوی و لسانی معیار کو پرکھنے کا ایک معروضی اور کڑا علمی ذریعہ ہے۔ اس علمی کاوش پر کتاب کے سرورق (بیک فلیپ) پر حافظ صفوان محمد نے انتہائی بصیرت افروز رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ کتاب اس بات کی غماز ہے کہ رانا محمد عمر خاں نے یہ کام کرنے میں اپنی آنکھوں کا بہت تیل نکالا ہے۔ جناب حقی اسے دیکھتے تو انھیں اپنا فرہنگِ تلفظ کا کھویا ہوا نسخہ مجسم صورت میں دیکھ کر بے حساب خوشی ہوتی۔ پروفیسر رفیق ظہیر صاحب نے اِس کتاب پر عالمانہ مقدمہ لکھا ہے اور اِس کاوش کی بھرپور تحسین کرتے ہوئے اس کام کی بنیاد گزاری کی مختلف سطحوں سے قاری کو روشناس کرایا ہے۔

بلاشبہ پروفیسر محمد عمر خان نے "فرہنگِ تلفظ" کے پیچیدہ لسانی مباحث کو جس طرح سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر پرکھا ہے، وہ لغت نویسی کی تاریخ میں ایک مستند حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقی صاحب کی "فرہنگِ تلفظ" کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انہوں نے اردو کے صوتیاتی ڈھانچے کو سائنسی اصولوں پر استوار کرنے کے لیے انتھک محنت کی۔ تاہم، اس علمی سفر میں پہلا ایڈیشن چھپنے کے بعد، حقی صاحب کی اپنی اصلاحات اور پروف کی اغلاط کی درستیاں کاتب پورے طور پر نہ لگا سکا۔ اس تشنہ رفو کام نے اردو لغت نویسی کے معیار کو ایک طویل عرصے تک ایک خلائی کیفیت میں مبتلا رکھا، جس سے زبان کے صوتیاتی مزاج کو جزوی نقصان پہنچا۔ چنانچہ اس علمی خلا کو پر کرنے کے لیے پروفیسر رانا محمد عمر خاں نے جس وسعتِ قلبی اور باریک بینی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ داد ہے۔ رانا صاحب محض ایک محقق نہیں بلکہ لغت نویسی کے نباض ہیں۔ ان کی تحقیقی کاوش اور علمی بصیرت کا اعتراف ڈاکٹر شمس الرحمٰن فاروقی کے "لغاتِ روزمرہ" کے محاکمے سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ "فرہنگِ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ" میں انہوں نے حقی صاحب کی فرہنگ کے مختلف ایڈیشنز، خاص طور پر 1995ء سے 2022ء تک کے اشاعتی سفر کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ جدید لغت نویسی کے اصولوں کے مطابق، جیسا کہ سیموئیل جانسن (Samuel Johnson) نے کہا تھا کہ "لغات کا مقصد زبان کی اصلاح اور اس کی درستگی ہے"، رانا صاحب کی یہ کاوش اسی زریں اصول کی عملی تعبیر ہے۔ لغت نویسی محض ایک ادبی ذوق نہیں بلکہ ایک انتہائی دقیق اور تکنیکی عمل ہے؛ ہمارے لغت نگاروں نے اس دور میں جب جدید صوتی آلات اور سافٹ ویئرز کا وجود نہ تھا، اپنے محدود وسائل کے ساتھ جو جانفشانی کی، وہ آج کے ڈیجیٹل دور کے محققین کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ یہ تکنیکی مہارت کا فقدان ہی تھا جس نے کئی مقامات پر لغت کو اسقام سے دوچار کیا۔

کتاب کا ایک اہم تنقیدی پہلو 2002ء کے ایڈیشن کے جائزے میں سامنے آتا ہے، جہاں مصنف نے سید رضوان علی ندوی کے اعتراضات کے تناظر میں 'کنج'، 'اباق'، 'املاص'، 'پکٹ'، اور 'تخبیر' جیسے الفاظ کے اعراب اور معانی پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ رانا صاحب نے نشاندہی کی ہے کہ لغت نگاروں نے اکثر مقامات پر تاریخی اصولوں کے بجائے سرسری رویہ اپنایا۔ مثال کے طور پر، ارسطاطالیس کی پیدائش و وفات کے سنین کے اندراج میں جو تضاد پایا جاتا ہے، وہ انگریزی اور اردو کے رسم الخط کے دائیں اور بائیں جانب سے لکھنے کے اصولوں کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ مصنف نے ثابت کیا ہے کہ قبل مسیح کی تاریخوں کو درج کرنے کا مروجہ طریقہ کار اردو لغت نویسی میں علمی غلطیوں کا باعث بنا ہے، جسے فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔

مبصرین کی فکر اس مقام پر رانا عمرصاحب کے کام سے ہم آہنگ نظر آتی ہے، جہاں وہ کہتے ہیں کہ "لسانی تحقیق میں معروضی مطالعہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں حقیقت تک لے جاتا ہے"۔ محمد عمر صاحب نے 2017ء کے نستعلیق ایڈیشن میں صوتی علامات، جیسے فتحہ، کسرہ اور ضمہ کے فقدان کو زبان کے صوتی حسن کے لیے ایک بڑی کمی قرار دیا ہے۔ وہ صرف غلطیوں کی نشان دہی نہیں کرتے بلکہ ان کی تاریخی اور لسانی جڑیں بھی تلاش کرتے ہیں۔ سید رضوان علی ندوی اور حقی صاحب کے درمیان ہونے والی علمی بحث کا جو تقابلی تجزیہ انہوں نے پیش کیا ہے، وہ اردو تحقیق میں مکالمے کی ایک صحت مند روایت کو فروغ دیتا ہے۔ نوم چومسکی (Noam Chomsky) کے مطابق، "زبان کی ساخت کا مطالعہ اس کے گہرے صوتی و نفسیاتی نظام سے وابستہ ہے"۔ رانا صاحب نے اسی اصول کے تحت حقی صاحب کی فرہنگ کی لسانی ساخت کو نئے سرے سے پرکھا ہے۔

یہ کتاب محض ایک تحقیقی کاوش نہیں، بلکہ یہ اردو لغت نویسی کے لیے ایک ایسا اصلاحی چارٹر ہے جو آنے والے محققین کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔ اردو کی بین الاقوامی حیثیت کا تقاضا ہے کہ ہماری لغات معیاری اور مستند ہوں۔ اگر ہم نے اپنی لغات کے صوتی نظام اور درستگی پر سمجھوتہ کیا، تو عالمی سطح پر تحقیق کرنے والے سکالرز ہماری زبان کے ذخیرہ الفاظ اور اس کی باریکیوں پر کیسے اعتماد کر سکیں گے؟ لہذا، عمر خاں صاحب کا کام اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ اردو کے علمی تشخص کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ہے۔ رانا صاحب نے اس کام کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ لغت محض الفاظ کی فہرست نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک زندہ لسانی روایت کی امین ہوتی ہے۔ اس کام کے معیار اور اہمیت کا جائزہ لے کر بجا طور پر زور دے کر کہا جا سکتا ہے کہ ایسی تحقیقی کاوشوں کو نصابی اور تحقیقی سطح پر شامل کیا جائے تاکہ طلبہ لغت نویسی کے بنیادی تقاضوں سے واقف ہو سکیں۔

یہ تحقیقی سفر لسانیات کی تاریخ میں اپنا مقام خود متعین کرے گا، کیونکہ یہ کام جذباتی تسکین سے بالا تر ہو کر ٹھوس علمی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ کتاب کا ہر صفحہ مصنف کی کڑی محنت، مطالعے کی وسعت اور لسانی باریک بینی کا آئینہ دار ہے۔ رانا محمد عمر خاں نے جس طرح اِس لغت کی تدوینی و لسانی غلطیوں کے ازالے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا احاطہ کیا ہے، وہ نہ صرف تاریخ کا ایک اہم پہلو ہے بلکہ آنے والے محققین کے لیے ایک تنبیہہ بھی ہے کہ زبان کی تدوین میں ذرا سی غفلت کتنی بڑی قیمت ادا کر سکتی ہے۔ رانا صاحب کا یہ کام آنے والے ادوار میں اردو لسانیات کا ایک بنیادی اور ناگزیر حوالہ ثابت ہوگا۔ یہ تحریر بلاشبہ اردو کے اس علمی تشخص کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے جو ہماری تہذیب کی پہچان ہے۔ آخر میں، اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ ایسی سنجیدہ علمی اور لسانی کاوشیں ہی زبان کو مستحکم کرتی ہیں اور اسے ارتقا کی شاہراہ پر گامزن رکھتی ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی لغات کی اصلاح نہ کی تو کل کی نسلیں صوتی اور لغوی اعتبار سے ایک ایسے اندھیرے میں ہوں گی جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی۔ لہٰذا رانا محمد عمر خاں کی یہ کاوش نہ صرف ایک علمی کارنامہ ہے بلکہ ایک قومی لسانی فریضہ بھی ہے جسے ہر اہلِ قلم کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 91056481586

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.8 ★★★★★
Based on 22 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
M
Verified Purchase
Misha
Battle Creek, US
★★★★★ 3
Ehh. Not for me.
Color: Gray
Foot slides when walking in them. The fit was tighter than lead to believe. It did hold the moisture in but the silicone patch is small
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 23, 2026
S
Verified Purchase
Secret Angel
Omaha, US
★★★★★ 5
Transformative for Dry, Cracked Heels!
Color: Original Grey
I recently purchased Dr. Frederick's Original Moisturizing Heel Socks, and they have truly transformed the condition of my feet! I can’t recommend them highly enough. Effective Moisturization: These socks are infused with moisturizing agents that work wonders. After just a few uses, I noticed a significant reduction in dryness and cracking on my heels. My feet feel softer and smoother, and I love that I can wake up to beautifully moisturized skin. Comfortable Fit: The socks are incredibly comfortable to wear, with a snug yet gentle fit. I appreciate that they don’t feel restrictive, allowing me to walk around my home while wearing them without any discomfort. They are also lightweight, making them easy to slip on before bed. User-Friendly: They are super easy to use—just wear them overnight, and let the socks do their magic. I love the simplicity of incorporating them into my nighttime routine. Durable Quality: The quality of the socks is impressive. They wash well and have maintained their shape and effectiveness after multiple uses. I feel confident that they will last a long time. Final Thoughts: If you're struggling with dry, cracked heels, I highly recommend Dr. Frederick's Original Moisturizing Heel Socks. They are a fantastic investment in foot care and have made a noticeable difference in the health of my skin. These socks have become a must-have in my self-care routine!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 4, 2024
D
Verified Purchase
Donna
New York, US
★★★★★ 5
These worked for me!
Color: Original Grey
They worked great. I bought these for cracked sore heels. It took 2-3 weeks but my heels no longer hurt and the cracks have closed and look more like an indention than a crack now. They feel so much better, but I'll probably wear them another week just to be sure they stay healed. They look and feel like regular socks from the outside but only cover the heel with the toe open. Not think but not thick, again like regular socks. They would probably be slippery on a smooth surface the same as socks. The inside feels like rubber or something smooth at the heel. I have washed them once each pair and accidentally dried one pair in the dryer. They still seem to feel the same so I think they're fine. They're pretty inexpensive and had different colors and sizes.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 10, 2026
M
Verified Purchase
Mimi
Natrona Heights, US
★★★★★ 4
Truly Helped My Cracked Heels
Color: Original Grey
I didn't include a photo cause they look exactly like their advertisement photo. I so liked the silicon-type heel lining as it kept the heel-repair cream on my heel and did not get soaked up by the sock. But, it is so, so slippery when walking around in them! Take care to be mindful when you set each foot down as the lotion can slide your heel across the sock quite a bit. If these socks were for an elderly person, I would have them only sit while using the sock - no walking around for fear of falling. I have larger ankles and found that having both the top and the bottom hems/elastic, etc. the same size to be quite troublesome and was not a nice feeling or fit on my upper hem that hit my ankle. Don't get me wrong, I am so glad that I got them and I continue to use them and they are helping my horribly-cracked heels greatly, but I find that I have to keep moving the top hem up and down so that it doesn't stay in one position as it cuts in to my ankle. My feedback and advice might be to please make the upper hem somewhat larger than the one that is on the bottom and goes over my actual foot. They really should not be the same circumference...or else make different sizes - S, M, L, etc. That's really my only complaint or "con" to ordering these. I think they are a great concept and I like the fact that I can throw them in the washer and dryer.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 8, 2024
S
Verified Purchase
SC6218
West Palm Beach, US
★★★★★ 5
Actually works, and really well
Color: Original Grey
I bought these because I got them on a great deal and was quite skeptical, but they actually worked exactly as advertised and I saw a huge difference after the first night! I understand why they don’t cover the whole foot like a regular sock (it would be stifling), but it would be incredible if they made a pair that go forward enough to cover the ball of the foot. One pair lasted about 3 weeks before the moisturizer wore out (I did notice a dropoff after washing, so for best results put them on when you’re clean and just for overnight, so you can avoid washing). Apologies for no photos- no one wants to see the before photos. These work so well I’ve just come back to order more even though I’m now paying full price. Definitely, definitely recommend.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 28, 2026

recommand products